ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کسان بل 2020: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جاری کیا نوٹس، 6 ہفتوں میں جواب طلب 

کسان بل 2020: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جاری کیا نوٹس، 6 ہفتوں میں جواب طلب 

Mon, 12 Oct 2020 22:43:36    S.O. News Service

نئی دہلی،12 /اکتوبر(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) کسان بل 2020 کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور 6 ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ درخواستوں میں زرعی قوانین کے آئین کو چیلنج کیا گیا ہے۔

عدالت نے منوہر لال کی درخواست کو نظرانداز کرتے ہوئے دوسرے رہنماؤں کی درخواستوں پر حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے دیگرتمام ہائی کورٹ میں دائر مقدمات کی صورتحال کی تفصیلات بتانے کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں بنائے گئے زرعی قانون کے خلاف دائر چار درخواستوں پر سماعت کی۔ ان درخواستوں میں قانون کو غیرآئینی طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس جے ایس اے بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی رام سبرمنیم کی بنچ نے کی۔

ڈی ایم کے ممبر پارلیمنٹ ترچی سیوا نے زرعی قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوانین کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا جائے۔نئے قوانین ملک کے غریب کسانوں کے لئے ایک نئی استحصالی حکومت کی شرو عات کریں گے، جو پوری طرح سے بازار میں اپنی پیداوار کو بیچ کر اپنی زریعہ معاش پر بھروسہ کرتے ہیں۔

آر جے ڈی کے ممبر پارلیمنٹ منوج جھا نے نئے نافذ کئے گئے تین زرعی قوانین کی آئینی جواز کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ جھا نے درخواست میں قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امتیازی سلوک اور واضح طور پر من مانی ہے۔واضح رہے کہ کیرول اور تریچی کے رکن پارلیمنٹ اور ایڈوکیٹ منوہر لال شرما نے بھی اس قانون کو چیلنج کیا ہے۔


Share: